چلتے پھرتے یہ تین لفظ پڑھ لیں ! کتنی ہی مشکل حاجت ہو چند لمحوں میں حل

چلتے پھرتے یہ تین لفظ پڑھ لیں ! کتنی ہی مشکل حاجت ہو چند لمحوں میں حل

آمیزنگ سٹوریز ! یہ تین لفظ پڑھ لیں انشاء اللہ ان تین لفظوں کی برکت سے آپ کی تمام پریشانیاں مشکلات ختم ہو جائیں گی اور مسائل حل ہو جائیں گے اور جتنی بھی مشکل سے مشکل ترین حاجت ہے وہ بھی پوری ہو جائے گی بس آپ نے کامل بھروسے اور کامل یقین کے ساتھ یہ وظیفہ کر لینا ہے انشاء اللہ اس وظیفے کی برکت سے آپ کی تمام مشکل سے مشکل حاجات بھی پوری ہو جائیں گی اور آپ کی تمام حاجات ایسے پوری ہونے لگیں گی جیسے آپ کی کوئی حاجت باقی ہی نہ رہی۔ تو آپ کی جتنی بھی مشکل حاجت ہے بس آپ یہ تین لفظ پڑھ لیں ۔آج کے سائنسی دور میں ہر انسان مشکلات کا شکار ہے کچھ واقعات غیر ارادی طور پر ہوتے ہیں اور کچھ ارادتاً ہوتے ہیں ان غیر معمولی واقعات کے ذریعے انسان رکاوٹوں اور گردشوں کے چکر میں پھنس جاتا ہے وہ اپنا تمام اثاثہ ،صحت ،روپیہ ،تعلقات،محبت ،ذات داؤ پر لگا دیتا ہے اسے اپنی قسمت پر شک ہوتے لگتا ہے۔ شادی،کاروبار ،رشتہ نہ آنا ،رشتہ داروں کی مخالفت ،جلد شادی کا نہ ہونا ،کاروبار کا لگانا لیکن چل نہ پانا ،مخالفتوں کی روک ٹوک،شیطانی اثرات ،کیا کسی نے کچھ کروا تو نہیں دیایا میرے ہی ساتھ ایسا کیوں ہوتا ہے ،ایسی تمام چیزیں ختم کرنے کے لئے ایک وظیفہ تحریرکیا جارہا ہے جو آج تک آپ کو کسی نے بتایا ہو گا نہ آپ نے سنا ہوگا۔وہ رات وہ دن کس قدر خوش قسمت ہوتے ہیں جب ہم اپنے رب کریم کی عبادت میں ان کو گزار دیتے ہیں ۔جیسا کہ ایک روایت میں ایک واقعہ ہے کہ حافظ مطہر سعدی رحمۃ اللہ بہت متقی اور پرہیز گار تھے مسلسل ساٹھ سال تک اللہ پاک سے ملاقات کے شوق میں آنسو بہاتے رہے ،آپؒ فرماتے ہیں ایک رات میں نے اپنے آپ کو خواب میں ایک ایسی نہر کے کنارے پایا جس میں عمدہ مشک بہہ رہا تھا ،اس کے دونوں کناروں پر انتہائی قیمتی موتی بکھرے ہوئے تھے،پھر میں نے سونے کی اینٹوں سے بناہوا ایک محل دیکھا جس میں خوبصورت لڑکیا ں بہترین لباس و زیورات سے آراستہ بلند آواز میں رب کریم کی پاکی بیان کررہی تھیں میں نے جب ان کی تسبیح سنی تو پوچھا تم کون ہو انہوں نے خوبصورت آواز میں کہا ہم رب کریم کی مخلوق میں سے ایک مخلوق ہیں ۔میں نے پوچھا تم یہاں کیا کرتی ہو۔انہوں نے کہا کہ رب کریم نے ہمیں ان لوگوں کے لئے پیدا فرمایا ہے جو رات کو قیام کرتے ہیں اور اپنے رب سے مناجات کرتے ہیں جب کہ لوگ سور ہے ہوتے ہیں ،میں نے کہا وہ خوش قسمت لوگ کون ہیں جن کی آنکھیں رب کریم تم سے ٹھنڈی کرے گا ،انہوں نے کہا کیا تم ان لوگوں کو نہیں جانتے میں نے کہا نہیں، کہا بے شک یہ وہ لوگ ہیں جو قرآن کی تلاوت کرتے، تہجد پڑھتے اور دن کو روزہ رکھتے ہیں ،ایسے خوش نصیب عبادت گزاروں کے لئے اللہ کریم نے ہمیں پیدا فرمایا ہے ۔سبحان اللہ کتنے خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو رات کی تنہائی میں اپنے رب کریم کو یاد کرتے ہیں، کتنے خوش قسمت ہیں وہ جو فرض روزوں کے ساتھ ساتھ نفل روزے بھی پابندی کے ساتھ رکھتے ہیں، کتنے خوش قسمت ہیں وہ جو نماز تہجد ادا کرتے ہیں، کتنے خوش قسمت ہیں وہ جو روز انہ تلاوت قرآن کرتے ہیں، کتنے خوش قسمت ہیں وہ جو رات کو قیام کرتے ہیں لیکن افسوس فی زمانہ ہماری ایک تعداد ایسی ہے جو رات کو بہت دیر تک جاگ کر فلموں ڈراموں میں اپنا وقت برباد کرتی ہے تو کبھی موبائل فون پر کال پیکجز کے ذریعے اپنے قیمتی لمحات کو گناہوں میں گزارتے ہیں۔لیکن سوشل میڈیا پر ساری ساری رات بے ہودہ اور فضول گفتگو پھیلاتے ہوئے اپنا اور دوسروں کا وقت برباد کرتے ہیں ان میں اکثریت ان کی ہوتی ہے جنہیں نہ نمازوں کی فکر ہوتی ہے اور نہ قرآن پڑھنا آتا ہے۔

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *