سہاگ رات تھی یا کوئی بھیا نک رات میرے بوڑھے شوہر نے میرے

سہاگ رات تھی یا کوئی بھیا نک رات میرے بوڑھے شوہر نے میرے

میں اس وقت چودہ سال کی تھی ماں باپ اور بھائی کی پیاری کبھی غم کا منہ نہ دیکھا تھا یہ جانتی بھی نہ تھی کہ وہ دکھ جو دل کو اپنی مٹھی میں لے کر توڑ ڈالتا ہے کیسا ہوتا ہے۔ ان دنوں مجھے سنور نے اور شادی کی تقریبات میں جانے کا بہت شوق تھاشاید اس لیے کہ دلہنیں اچھے اچھے کپڑے پہنتی ہیں اور بہت پیار ی لگتی ہے میں بھی دلہن بن جانے کے خواب دیکھا کرتی تھی جب میری چچا زاد بہن کی شادی ہو رہی تھی تو میں نے اس تقریب میں شرکت کے لیے خوب تیار ی کی تھیمجھے یاد ہے میرا دوپٹہ چمکتے ستاروں سے بھرا ہوا تھا اور جب نور عالم کی شادی کے روز اس کو پہنا تو اس کا بوجھ اٹھا نا سکتی تھی نو عمر لڑ کیاں تو ہر صورت دلہن کے قریب ہو نا چاہتی ہیں۔ مجھے بھی عورتوں نے کہا با ہر جاؤں دلہن کے دستخط لینے کچھ بزرگ اندرآ رہے ہیں مگر میں نہ اٹھی مجھے ڈر تھا کہ اگر میں نے اپنی جگہ چھوڑ دیں تو کوئی اور لڑکی یہاں آکر بیٹھ جا ئے گیخاندان کے کچھ بزرگ ہے اندر آ گئے ان میں ایک وہ بھی تھا مجھے کیا پتہ کون آ ئے ہیں میں تو دلہن میں گم تھی وہ کیسے سر جھکا ئے بیٹھی تھی اور وہاں کرتے ہوئے شر ما ر ہی تھی جلد ہی یہ لوگ رشتہ لے کر میرے ابو جان کے پاس آ ئے لڑ کا اس بزرگ کا بھتیجا تھا جس کی سب لوگ بہت عزت کر رہے تھے ابو نے کہا سردار کا رشتہ دار ہے۔ اماں کو پہلی نظر میں وہ پسند آ گیا ماں کہنے لگے آ گے خدا بعد نظر سے بچائے کس ماں نے ایسے لال کو جنم دیا ہے آنکھ بھر کر اس کی طرف دیکھا نہیں جا تا خاندان میں دھوم مچ جائے گی میرے داماد کے حسن کی ہماری بیٹی بھی اپنی مثال آپ ہےیہ تو چاند سورج کی جوڑی رہے گی بس صائمہ کے ابو جلدی سے یہ رشتہ قبول کر لو سردار ہماری حیثیت سے بلند مر تبہ ہے ہم کہیں مشکل میں نہ پڑ جا ئیں سوچ سمجھ کر جواب دوں گا جس روز یہ ابا سے بات کرنے آ ئے تھے میں نے بھی اس کو دروازے کے پیچھے سے جھا نک کر دیکھا تھا پھر میں نے صندوق سے وہ ستاروں بھر دوپٹہ نکال لیااور دیر تک بند کمرے میں آ ئینے کے سا منے یہ دوپٹہ اوڑھ کے بیٹھی رہی خبر نہیں ابا نے پھر کیا فیصلہ کیا۔ ایسے فیصلے پہلے زمانے میں لڑ کیوں کو کون بتا تا تھا جس روز نکاح تھا دو لہے کا سارا چہرہ سہرے سے ڈھکا ہوا تھا۔ نکاح ہو گیا دو لہا کے پہلو میں بٹھا کر ماں باپ نے رخصت کر دیا با دعا دے رہے تھےمی رو رہی تھی رخصت ہو کر سسرال چلی گئی بارہ بجے شب ہم گھر پہنچے اور مجھے کمرے میں بٹھا دیا گیا میرے شوہر اندر آ ئے انہوں نے کام کے ہاتھوں سے میرا گھو نگھٹ اٹھا یا میں نے یہ دشوار مرحلہ طے کیا کہ نظر اٹھا کر ان کی جا نب د یکھ لیا بس یہی غضب ہو گیا میں تو ان کی صورت دیکھتے ہی بے ہوش ہو کر گر گئی یہ کیا ہوا کہ قیا مت ہی ٹوٹ پڑی سہاگ رات تھی کہ کوئی بھیا نک خواب تھا یہ وہ نیلی آنکھوں والا سجیلا گبر و تو نہ تھا یہ ایک ستر سال کا بوڑھا آدمی تھا۔

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *