سہاگ رات کی کہانی میری عمر 14 برس کی تھی

سہاگ رات کی کہانی میری عمر 14 برس کی تھی

سہاگ رات کی کہانی میری عمر 14 برس کی تھی اور میری شادی 60 سال کے بوڑھے آدمی سے کردی گی سہاگ رات میں بیڈ پر بیٹھی تھی وبجے پر میراشوہر کمرے میں آیا اور کہا آج تو بہت مزا آۓ گا اور اٹک کے 12 بجے اس نے میرے کپرے اتار دیے اور ؟بد نصیب لڑکی 14 سال کی تھی جب اس پر گاؤں کے چوہدری کا دل آ گیا ، لڑکی کی ماں نے اس وڈیرے کے ساتھ اپنی بیٹی کا سودا کر لیا اور اسے یقین دلایا کہ اس کی بیٹی کنواری ہے ۔ بیٹی ، جسے اس کے ماں باپ نے پیدائش کے بعد قبول ہی نہیں کیا تھا اور اس کے ساتھ ہمیشہ سے جانوروں جیسا سلوک کرتے آ رہے تھے ، وڈیرے کے ساتھ اس سودے پر اچانک اس پر محبت نچھاور کرنے لگے ۔ڑکی اپنی کہانی بیان کرتے ہوئے لکھتی ہے کہ ” جب میری ہاں نے میرا سودا کر لیا تو شادی کی تیاریاں شروع ہو میں ۔ دولہا کی طرف سے عروسی جوڑا اور دیگر تحائف آنے لگے تھے ۔ شادی سے ایک رات قبل مجھے مہندی لگائی گئی ۔ ان تمام دنوں میں میرے گھر کے تمام فرد ، جو تمام ر بدترین تشدد کرتے آۓ تھے ، مجھے کھانے کو انتہائی کم دیتے تھے بلکہ اکثر فاقے سے رکھتے تھے ،چانک تبدیل ہو گئے ۔ میں ان کے اس سودے سے آگاہ تھی پر ان کے رویے میں آنے والی اس تبدیلی پر دل ہی دل میں گئے ۔ اس سے لگاوں گیں میں نے سمجھی ان سے انتقام لینے کی ٹھان لی تھی ۔ شادی شادی کا دن آ پہنچا اور میں بہت خوش میرے انتقام لینے کی گھڑیاں نزدیک آ رہی تھیں ۔ بارات آئی ، مجھے سجا سنوار کر آنگن میں بیٹھے میرے دولہا کے ساتھ لیجا کر بٹھا دیا گیا ۔ مجھے نہیں معلوم وہاں کتنا وقت گزرا تھی ۔ میں نے بھی سے انتی بیوی پر نہیں بلکہ اس بات آکیونکہ مجھے وقت کا کچھ احساس ہی نہیں رہا تھا ۔ پھر رخصتی کا وقت آ گیا ۔ میری ماں مجھے گلے لگا کر رو رہی تھی اور میں اندر ہی اندر ہنس رہی لڑکی مزید لکھتی ہے کہ ’ ’ دولہا کے گھر پہنچ کر میں گاڑی سے اتری تو سامنے اس کی بہت بڑی حویلی تھی ۔ مجھے ایک بہت بڑے گلاب کے پھولوں سے سجے ہوۓ کمرے میں تیجا کر بیڈ پر بٹھا دیا گیا ۔ کچھ وقت گزرا اور میرا دولہا اندر آ گیا ۔میں نے اسے دیکھا ۔ اس کی عمر 60 سال سے زیادہ تھی ، ایس صرف 14 سال تھی ۔ اس نے شراب پی وقت میری سے نے کی کایا دیکھ کر اس نے کہا کہ ” تمہاری ماں کہ تم بہت خوبصورت ہو ، وہ مجھ سے زیادہ رقم بھی مالتی تو میں دے دیتا ، تم مجھے بہت سستی مل گئی ہو ۔ “ وہ میرے قریب آیا ، میرے سر سے دوپٹہ اتارا ، میرے زیورات اتارے اور پر بچے لپٹ اور پھر مجھے مل برہنہ کر دیمیں نے کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ۔ اس کے بعداس نے مجھے اٹھ کر کھڑے ہونے کو کہا ۔ وہ میرے ایک ایک عضو کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہا تھا ، وہ مجھے نہیں بلکہ اپنی خریدی ہوئی چیز کو دیکھ رہا تھا کہ کہیں اس کی رقم ضائع تو کہیں گئی ۔ پر اس نے ایک جھکے سے مجھے پچ کر بستر پر گرا دیا اور میرے اوپر لیٹ گیا ۔ جیسے ہی اس نے میرے ساتھ مباشرت شروع کی ، وییسے معلوم ہو گیا کہ وہ جو چیز چاہ رہا تھا وہ مجھ میں نہیں ہے ۔ میرا پرده بکارت پھٹنے سے ، والا خون ہیں نکلا تھا ۔ اس و | وہ غصے سے لال پیلا ہو گیا ۔ کیوں نہ ہوتا ، اس کی ساری سرمانی کاری ضائع ہو رہی تھی ۔ اسے یہی ایک چیز تو چاہیے ھی جو اس سودے کا سننے کے بعد میں نے اپنے گھر والوں سے لینے کے لیے اپنے ہاتھوں سے ختم کر دی تھی ۔ میں جانتی کہ اس کے بعد کیا ہو گامیری یہ میر وڈیرا جھوٹ بولنے پر میری ماں کو سرعام تشدد کا نشانہ بناۓ گا ، اسے سودے کی رقم بھی نہیں دے گا اور پھر خاندان سمیت ایسے گاؤں سے بھی نکال باہر کیرے گا ۔ یہی تو میں چاہتی تھی ۔ مجھے اپنی کوئی پروا نہیں تھی ۔ میں تو سے تشدد سہنے کی عادی تھی اور اب بھی چہرے ایک مسکراہٹ لیے اپنی سہاگ رات میں اپنے دولہا گھونسے اور لاتیں سہہ رہی تھی کے ع

Categories

Comments are closed.